انٹرٹینمنٹ

امریکا نے شام سے تعلق کی بنیاد پر ماڈل کو مسز ورلڈ مقابلے میں شرکت سے روک دیا

امریکا نے شام سے تعلق کی بنیاد پر ماڈل کو مسز ورلڈ مقابلے میں شرکت سے روک دیا

امریکا نے مسز ورلڈ کے مقابلے میں شرکت کرنے والی برطانوی ماڈل لین کلائیو کو مبینہ طور پر ملک شام میں پیدا ہونےکی وجہ سے ویزا دینے سے انکار کردیا۔ ایسٹ یارکشائر سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ لین کلائیو امریکا میں ہونے والے مسز ورلڈ کے فائنل مقابلے میں برطانیہ کی نمائندگی کرنے والی تھیں لیکن انہیں امریکا کی جانب سے ویزا دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔

ماڈل لین کلائیو کا کہنا ہے کہ میرے شوہر اور میری بیٹی کو امریکا کی جانب سے ویزا دیا گیا لیکن مجھےاس لیے انکار کر دیا گیا کیونکہ میں ملک شام میں پیدا ہوئی۔ لین کلائیو کاکہنا ہے کہ میں برطانوی شہری ہوں ، میں اس مقابلے میں برطانیہ کی ہی نمائندگی کررہی ہوں لیکن اندازہ نہیں تھا کہ مجھے امریکا کا ویزا نہیں ملے گا۔ برطانوی ماڈل نے امریکی سفارت خانے سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں مقابلے میں شرکت کے لیے وقت پر ویزا فراہم کرے۔

دوسری جانب ایک بیان میں امریکی حکام کاکہنا ہے کہ ویزا ریکارڈ امریکی قانون کے تحت خفیہ ہے، اس لیے ہم انفرادی ویزا کیسز کی تفصیلات پر بات نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ اپنی ویب سائٹ پر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ درخواست دہندگان جو ان ممالک کے شہری ہیں جہاں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ، ان کا انٹرویو قونصلر افسر سے ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ شام بھی امریکا کی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔ 2013 میں برطانیہ آنے کے بعد سے لین کلائیو نے انگریزی بولنا سیکھی بلکہ خواتین کی برابری اور پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے مہم بھی چلائی۔

برطانوی ماڈل 15 جنوری کو مسز ورلڈ کے 35ویں سالانہ ایونٹ میں حصہ لینے والی تھیں، جس میں57 ملکوں سے شادی شدہ ماڈل نے شرکت کرنی ہے تاہم، ویزا جاری نہ ہونے کا مطلب یہ کہ برطانیہ اس مقابلے میں شرکت نہیں کرے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے