کالم

مغربی تہذیب کے صحیح عنصر امریکہ کی تلاش

سب سے پہلے پاکستان، پھر افغانستان
مجھے علامہ اقبال کے اپنے فارسی مجموعہ کلام پیام مشرق کے اردو دیباچے میں لکھے اس تاثر پر اکثر حیرت ہوتی ہے جس میں انہوں نے پہلی جنگ عظیم میں اپنے اندرونی تضادات اور صنعتی انقلاب کے ثمرات کی غلط تفہیم کے باعث یورپی ممالک کے باہمی ٹکرا اور تباہی پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو مغربی تہذیب کے ایک صحیح عنصر کے طور پر شناخت کیا تھا ۔ اقبال نے دیباچے میں لکھا تھاکہ;34; یورپ کی جنگ عظیم (پہلی جنگ عظیم)ایک قیامت تھی،جس نے پرانی دنیا کے نظام کو قریبا ًہر پہلو سے فنا کر دیا ہے ۔ اور اب تہذیب و تمدن کی خاکستر سے فطرت زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا ;200;دم اور اس کے رہنے کےلئے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے ۔ یورپ نے اپنے علمی ، اخلاقی اور اقتصادی نصب العین کے خوفناک نتاءج اپنی ;200;نکھوں سے دیکھ لیے ہیں ۔ لیکن افسوس ہے کہ اس کے نکتہ رس مگر قدامت پرست مدبرین اس حیرت انگیز انقلاب کا صحیح اندازہ نہیں کر سکے ، جو انسانی ضمیر میں اس وقت واقع ہو رہا ہے ۔ اسی پس منظر میں اقبال نے امریکہ کے بارے میں اپنی خوش گمانی کا مدلل اظہار بھی کیا تھا ۔ انہوں نے لکھا کہ’’البتہ امریکہ مغربی تہذیب کے عناصر میں ایک صحیح عنصر معلوم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ملک قدیم روایات کی زنجیروں سے ;200;زاد ہے اور اس کا اجتماعی وجدان نئے اثرات و افکار کو ;200;سانی سے قبول کر سکتا ہے‘‘ ۔ قدیم روایات کی زنجیروں سے ;200;زاد ہونا اور ایک قوم یا خطے کے اجتماعی وجدان کا نئے اور تازہ افکار ، نظریات ، تصورات اور اثرات کو ;200;سانی سے قبول کرنے کی صلاحیت رکھنا ایک بڑی خوبی بلکہ ایک طاقت خیال کی جاتی ہے ۔ امریکہ کی اسی خوبی کو اقبال سراہتے تھے اور امریکہ کے اجتماعی وجدان کی اسی صلاحیت کے باعث یورپی تہذیب کا ایک صحیح عنصر خیال کرتے تھے ۔ امریکہ کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سلامتی کے متعلق طرز عمل کی فرسودگی نے اجتماعی امریکی سیاسی طرز فکر وعمل میں راست تبدیلیوں کی ضرورت کو نمایاں تر کر دیا ہے ۔ امریکہ کی عالمی عظمت کا مدار اس کی علمی ترقیات میں مضمر تھا اور کسی حد تک ہے ۔ لیکن امریکہ کے عالمی سیاسی کردار پر ہاورڈ یا ایم ;200;ئی ٹی کے اثرات سے زیادہ پینٹاگان کی نادانیاں حاوی نظر ;200; رہی ہیں ۔ کیا امریکی صدر جو بائیڈن روس کے ولادیمیر پوٹن اور چین کے راہنما شی جن پنگ کے ساتھ مساوی ذہانت سے مقابلہ کر سکتے ہیں ;238; میرا تاثر ہے کہ یوکرین کے حالیہ بحران میں امریکہ کے منہ سے ;200;واز نکال کر پٹاخے چھوڑنے جیسی پالیسی کو کسی نے پسند نہیں کیا ۔ خود امریکہ کی حکمت عملی کے بارے میں یورپی یونین کے تاثرات مختلف نظر ;200;تے ہیں ۔ حالیہ یوکرین تنازعے نے امریکہ کی سیاسی دانش پر متعدد سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ۔ ان میں سب سے بڑا سوال اردو کے نامور شاعر میر تقی میر اپنے ایک معروف شعر میں بیان کر چکے ہیں ،میر نے کہا تھا کہ

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک اگر امریکہ کی عالمی جنگ جوئیوں کے انجام کا خلاصہ مرتب کیا جائے تو لازمی طور پر میر تقی میر کے اس شعر کا انگریزی ترجمہ شامل کرنا پڑے گا ۔ ہاں مگر ان ناکامیوں نے امریکہ کی ڈیفنس انڈسٹری کو خوب فروغ دیا ۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ نیفے میں خنجرچھپا کر اور ہوا میں طمانچہ لہرا کر ایک قصباتی ہیرا منڈی میں طواءفوں اور تماش بینوں کو ہراساں کرنے والا باعزت مقام و مرتبہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ لوگ اس کے ڈر سے خاموش رہیں گے ، ;200;منا سامنا ہونے پر کنی کترا جائیں گے ، پر عزت نہیں کریں گے ۔ ستم ظریف کہتا ہے کہ کنجر اور خنجر مل کر بھی اپنے لیے احترام حاصل نہیں کر سکتے ۔ احترام حاصل کرنے کےلئے اپنا طرز عمل درست کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ برتر سائنسی شعور کے نتیجے میں حاصل ہونے والی طاقت تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں میں بدل کر اور بیچ کر ;200;پ کی ڈیفنس انڈسٹری تو ترقی کر جائے گی ،لیکن اجتماعی اخلاقی عزت اور برتری کا منصب کھو جائے گا ۔ کیا امریکہ میں کسی بھی سطح پر یہ احساس پایا جاتا ہے;238;ویت نام کو چھوڑئیے، بات پرانی ہو چکی ، پر اس کا سبق ;200;ج بھی تروتازہ ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں تجاوز ،لیبیا ، عراق اور شام کی تباہی کیا دنیا میں خیر تقسیم کرنے کی حکمت عملی ہے;238; کتنا ;200;سان تھا عراق پر سفید جھوٹ بول کر کالا سیاہ حملہ کرنا ۔ کتنا سہل رہا معمر قذافی کو قتل کرنا;238; کیا تاریخ ان واقعات کو بھول پائے گی ۔ ;238;اور کیا افغانستان میں افغان جہاد حصہ اول کے بعد ، افغان دہشت گردی کے خلاف بیس سالہ قبضے نے کوئی تازہ سبق دیا ہے امریکہ کو ۔ ;238; چلئے مسلمان ممالک کی امریکہ کے سامنے ہنسی نکل جاتی ہے ۔ پر چین اور روس کو سمجھنے میں مسلسل ناکامی کے بارے میں کوئی خیال ،کوئی سوچ اور احساس پایا جاتا ہے امریکہ میں ;238; ظاہر ہے کہ چین پاکستان نہیں ،اور نہ روس سعودی عرب ہے ۔ چین نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ، وہ اپنے اختلاف ، قضیے اور موقف کو سلامت رکھتے ہوئے ;200;گے بڑھتے رہنے پر یقین رکھنے والا ملک ہے ۔ علامہ اقبال نے امریکہ کے بارے میں جس خوش گمانی کا اظہار1923 میں کیا تھا یعنی یہ کہ اس کا اجتماعی وجدان نئے اثرات قبول کرنے کی صلاحیت اس لیے رکھتا ہے کہ اس کے کندھوں پر روایات کا بوجھ نہیں ، نیا چین نئے اثرات کو قبول کرنے اور اپنی عالمی حکمت عملی کا حصہ بنانے کا مظاہرہ مسلسل کر رہا ہے ۔ امریکہ نئے چین کے ساتھ نہایت پرانے ہتھیاروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یعنی سنگیانگ کی ایغور مسلمانوں کے حقوق پر شور ، علاقائی اتحاد قائم کر کے منہ سے دھماکوں جیسی ;200;وازیں نکالنے کی مشق ، اور بے تاثیر دھمکیوں کا بے لطف اعادہ ۔ مجھے نہیں لگتا کہ صدر شی جن پنگ نے کبھی ان حربوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت بھی محسوس کی ہو گی ۔ چین نے اپنی تاریخ کو اپنی طاقت بنا کر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ مستقبل کی طرف سفر کرتے ہوئے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دئیے ۔ ستم ظریف کبھی کبھی یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے صدر جو بائیڈن چین اور روس کے بارے میں بات کرتے ہوئے تھوڑے سے ہکلا سے کیوں جاتے ہیں ۔ وہ اس بات پر بھی حیران ہوتا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہر طرح کی گفتگو پر ولادیمیر پوٹن ذومعنی مسکراہٹ پر اکتفا کیوں کرتا تھا ۔ اس نے ایک سوال بھی اٹھا رکھا ہے کہ کیا دنیا کی قیادت کا مدار تباہی پھیلانے کی صلاحیت کی بجائے بلا امتیاز ملک و قوم ، رنگ ونسل اور زبان و مذہب محض انسانیت کی بہتری کی صلاحیت پر منتقل ہو سکے گا;238; حالیہ وبا نے دنیا کو ایک سبق اور پیغام تو ضرور دیا ہے کہ اس کرہ ارض پر انسانوں کو اصل خطرہ وباؤں اور بیماریوں سے ہے ۔ اسی سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ترجیح ڈیفنس انڈسٹری کی بجائے ہیلتھ انڈسٹری کو دینی چاہیے اور صحت کے شعبے کو فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے نہایت خطرناک استعمار سے بچانے کےلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیا امریکہ میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں ممالک یا نظریات سے نہیں ، وباں اور بیماریوں کےخلاف لڑی جائیں گی;238;لیکن جب سنتے ہیں کہ امریکی ذہانت اور مہارت ایڑیاں اٹھا کر ایک ہزار میل دور تک مار کرنے والی توپ بنانے میں مصروف ہے ، وجہ شاہد یہ ہے کہ بین البراعظمی میزائلوں سے کام نہیں چلا ۔ ستم ظریف کہتا ہے کہ جوہری ہتھیار ہوں یا بین البراعظمی میزائیل یا کل کلاں بننے والی ایک ہزار میل مار کرنے والی توپ، یہ سب کمر سے بندھے خنجر کی مانند ہوتے ہیں ،جو بڑے ممالک کی عزت بچانے کےلئے بنائے اور کمر بند کیے جاتے ہیں ۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ جنگیں جیتنے کےلئے اچھے ، برتر اور جدید ہتھیاروں کےساتھ ساتھ مختلف اور حیران کردینے والی عقل اور توقعات سے کہیں زیادہ متنوع ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے ،ایسی ذہانت اور پیش قدمی جو مخالف کو حیران کر کے رکھ دے ۔ اگر یہ مخالف امریکہ ہے تو اسکے منہ سے بے ساختہ نکلے گا اوہ مائی گاڈ! اب گاڈ چونکہ چینیوں اور روسیوں کا مسلہ نہیں ، اس لیے وہ ہر توقع خود اپنی ہی ذات سے وابستہ کرکے مصروف عمل رہتے ہیں جبکہ امریکہ کو واقعتا نئے دماغ اور تازہ دم حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ واءٹ ہاوَس کو پینٹاگان کے بوڑھے اور ہاری ہوئی جنگوں کے ماہر اور تجربہ کار جرنیلوں کی بجائے ہاورڈ، ایم ;200;ئی ٹی اور بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسروں اور سائنسدانوں کے ہجوم کی ضرورت ہے ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے