کالم

بھارتی مسلمان اور پاکستان

mir-afsar
گزشتہ سے پیوستہ
اب پورے بھارت میں آر ایس ایس کی پالیسی پر عمل کرنے کی عوام کو کھلی چھٹی ہے۔ آئے دن ہجوم کسی نہتے مسلمان کو گھیر لیتے ہیں اور جئے شری رام کے نعرے لگانے کاکہتے ہیں پھر اسے مار مار کر شہد کر دیتے ہیں۔گائے کا گوشت کھانے کی شک میں مسلمانوں کو قتل کر دیتے ہیں۔کہیں آذان پر پابندی اور کہیں نماز پڑھنے پرپابندی لگائی جاتی ہیں۔پی جے پی کے وزیر کہتے ہیںکہ مسلمانوں کے ٹوپی اُتار کر کلنک لگانے پر مجبور کر دیں ۔ اس سے قبل بی جے بی کے ایک صاحب کہہ چکے ہیں ۲۲۰۲ءتک بھارت سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ شدی تحریک کے ذریعے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک کانگریس کے دور حکومت میں چلتی رہی۔ اب بھی گھر واپسی تحریک جاری ہے ۔ مسلمان لڑکیوں کا ہندو لڑکوں سے زبردستی شادیاں کرائی جا رہی ہیں۔ اس میں ہندوﺅں کا پورا معاشرہ شامل ہو گیا ہے ۔ وہ مسلمانوں کو ہندو بننے یا پھر بھارت چھوڑ جانے کے لیے مجبورکر رہے ہیں۔ ۲۹۹۱ءمیںبابری مسجد کے متعلق بھارت کی سپریم کورٹ کایک طرفہ فیصلہ ہے۔کچھ دن پہلے بھارت میں نام نہاد احمد آباد ہم دھماکے میں اڑتیس (۸۳) مسلمانوں کو سزائے موت اور بھارتی گجرات کی خصوصی عدالت نے گیارہ( ۱۱) مسلمانوں کو عمر قید کی سزا سنائی ۔ہائی کورٹ نے اس فیصلے کی توثیق بھی کر دی۔ جبکہ سانحہ سمجھوتہ ایکپریس جس میں سو سے کچھ کم مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ مجرموں پر جرم ثابت بھی ہو گیا ۔پندرہ( ۵۱) سال ہونے کو ہیں کہ مسلمان متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔اب ہندومسلمانوں کے مذہبی شعار حجاب کے پیچھے پڑھ گئے ہیں۔ بھارت میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے والی لڑکیوں کو ہرساں کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میںکوئی بھی مسلمان لڑی حجاب پہن کر داخل نہیں ہو سکتی ۔اسی سلسلے میں کرناٹک کے ایک کالج میں مسکان خان طالبہ کو ہرساں کیا گیا۔ کالج کے باہر آر ایس ایس کے غنڈے جمع ہو گئے۔ جب مسکان خان کالج میں اپنا اسانمنٹ داخل کرانے داخل ہونے لگی تو راستے میں اسے برقعہ اُتار نے کا کہا گیا۔ مسکان خان کے سامنے غنڈے جئے شری رام جیے شری رام کے نعرے لگا کر مسکان خان کو ہراساں کرنے لگے۔ تو امت مسلمہ کی شرینی مسکان خان نے ان کے شری رام کے نعروں کے جواب میں اللہ اکبر۔اللہ اکبر ۔اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ اس پر بھارت اور پوری مسلم دنیا میں مسکان خان کی اس بہادر ی کی داد دی جا رہی ہے۔ بنک میں جا کر اپنے اکاﺅنٹ سے پیسے نکانے والی حجاب پہنے ہوئی ±خاتون کوواپس کر دیا گیا کہ حجاب اُتارو تب بنک میں داخل ہو۔حجاب پر پانبدی کے خلاف احتجاج کرنے پر دس( ۰۱)طالبات پر مقدمہ قائم کر دیا گیا۔درجنوں طالبات کو معطل کر دیا گیا۔کشمیر میں تو مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ عمران حکومت نے بھارت کے ریاستی دہشت گردی کو ہتھیار کے طور کرنے پر استعمال کرنے پر احتجاج کیا۔ پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ بھارت کو مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دینے سے روکے۔دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت میں مسلم کیمونٹی کے ساتھ امتیازی اور غیر انسانی سلوک بھارت منظم مہم کا خوفناک مظہر ہے۔ عالمی برادی بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیمیں صورتحال کا نوٹس لیں۔ ہماری حکومت کو یہ بات پلے باند ھ لینی چاہےے کہ بھارت کا مودی ہٹلر کی قومی برتری والے فلسفے پر کار بند ہے۔ جو اس کی مدر تنظیم آر ایس ایس کا بنیادی فلسفہ ہے۔مودی کے اس فلسفے کا مقابلہ اسلام کے جہادی فلسفے سے ہی ممکن ہے۔ مودی حکومت کہتی ہے کہ پہلے پاکستان دو ٹکڑے کئے تھے اب دس ٹکڑے کریں گے۔ اس پر عمل کرنے کے لیے پوری دنیا میں میڈیا اورسفارتی مہم چلائی ہوئی ہوئی ہے۔ باقی کیا رہ جاتا ہے ۔ بھارت نے ہماری شہ رگ کو اپنے ہی آئین کی خلاف وردی کرتے ہوئے بھارت میں ضم کر لیا ہے۔کیا کوئی ملک شہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟کیا بھارت جب کشمیر کے سارے دریاﺅں کا پانی روک پاکستان کر پاکستان کوخشک سالی میں مبتلا کر کے صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ تب ہمارے حکومتیں حرکت میں آئیں گی۔ کیا قرآن ہدایت نہیں دیتا کہ دشمن کے مقابلے میںگھوڑے تیار رکھو؟۔ کیا پاکستان نے ایٹم بم الماری میں سجانے کےلئے بنایا ہے؟۔کیا ہماری فوج صرف ایکسر سائز ہی کرتی رہے گی۔ اپنے ملک کو بچانے کےلئے کوئی تدبیر نہیں کرے گی؟ بھارت کے ان مظالم اور پاکستان کوختم کرنے کی دھمکی پر پاکستان کو بھارت پر واضح کر دینا چاہےے کہ جیو اور جینے دو پر عمل کرے ورنہ سخت رد عمل کےلئے تیار ہو جائے ۔ عمران خان کے پاکستان کو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے اعلان پر ہم اپنے کئے کالموں میں درخواست کر چکے ہیںکہ اسلام کی تعلیمات ہیں کہ اگر کسی مسلم ملک کے پڑوس میں کافر ملک مسلمانوں پرظلم ڈھا رہا ہے تو سب سے پہلے اس ملک اور بعد میں دوسرے اسلامی ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم مسلمانوں کو اس ظلم سے نجات دلائیں۔ جہاں تک بھارت سے مقابلے کا معاملہ ہے تو عمران خان کو پاکستان میں صرف مدینے کے فلاحی ریاست کے نعرے کے بجائے صحیح اسلامی نظام حکومت قائم کر دینا چاہےے ۔ اس اقدام سے پچھتر( ۵۷) سالوں سے اسلامی نظام ِحکومت کاانتظار کرنے والی پاکستان کی خاموش اکثریت اپوزیشن کو چھوڑ کر عمران خان کے ساتھ شامل ہو جائے گی۔ دینی جماعتیں بھی عمران خان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائیں گی۔ شریعت کورٹ کے فیصلے کے مطابق پاکستان میں سودی نظام کو ختم کیا جائے ۔ بینکنگ اور تجارت کو شراکت کی بنیاد پر رائج کیا جائے۔ انگریزی قانون کو ختم کر کے اسلامی قاضی بنائی جائیں تاکہ مقدموں کا فیصلہ جلد ہو ۔ اس کے بعد عمران خان کو بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کر دینا چاہےے۔ پاکستان کو بھ ارت سے بچانے کا پوری پاکستانی قوم سے عہد لیناچاہےے۔ تحصیل لیول پر جمع ہو کر پاکستانی بھارت سے پاکستان کو بچانے لیے جہاد کے لیے تیار رہنے پر عمران خان سے عہد کریں ۔ہم اسلامی تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر گارنٹی دیتے ہیں کہ پاکستانیوں کے اس عمل سے بھارت کے ایوانے میں کھلبلی مچ جائے گی۔ یہودیوںکی طرح ہزار سال زندہ رہنے کی دعاﺅںمانگنے والے دولت کے بجاری بھارتی ہندومعاشرہ اسلامی کے جہادی معاشرے سے شکست کھاجائے گا۔ عملی جہاد کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ صرف یہی ایک راستہ ہے ۔اللہ کرے عمران خان حکومت ایسا ہی کرے ۔کیا ہم بھارت سے پاکستان کو بچانے ، بھارتی مسلمانوںپر بھارتی حکومت کے ظلم و سفاکیت روکنے اور انہیں اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کے لیے ایسا بھی نہیں کر سکتے؟

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے