دلچسپ اور عجیب

SHALLاور MAYکی غیر منطقی بحث

Halq-e-Ahbab
پارلیمان نے افواج پاکستان کے سربراہ کی مدت کے تعین کے حوالے سے قانون سازی کر دی اور بڑی خوش اسلوبی سے پارلیمان نے اس اہم ذمہ داری کو ادا کیا۔ حکومت تو اس بل کو لانے والی تھی ۔ لیکن حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور احسن انداز سے قانون سازی کا یہ مرحلہ مکمل ہوا۔ اس مرحلے کے ساتھ ہی برف پگھل سی گئی اور پارلیمان میں کچھ اور قوانین بھی منظور ہونے کا آغازہو گیا جن میں سے زینب الرٹ بل بھی ہے ۔ ابھی کل تک حالات یہ تھے کہ عمران خان کو کہنا پڑا کہ اگر اپوزیشن نے عدم تعاون پر مبنی یہی رویہ رکھا تو حکومت آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلا لے گی اور پھر یہ ہوا بھی۔ نیب کے معاملے میں ایک آرڈی ننس لایا بھی گیا۔ جس پر بہت سے سوالات اٹھے کہ صدارتی آرڈیننس کے حوالے آئین پاکستان کی جو روح اور جورسپروڈنس ہے کیا اس پر عمل کیا گیا اور پارلیمان کے ہوتے ہوئے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ اس کے بعد اب نیب کا قانون بھی از سر نو پارلیمان کے سامنے لائے جانے کی شروعات ہوتی نظر آ رہی ہے ۔یوں گویاکے آرمی ایکٹ کی مدت ملازمت کے بارے میں قانون سازی کے بعد پارلیمان میں قانون سازی کا جو عمل منجمد ہو چکا تھا وہ ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے جو اپنی جگہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے۔
لیکن اب ایک اور غیر ضروری بحث سر اٹھا رہی ہے۔ کل کچھ واٹس ایپ گروپ میں بعض سنجیدہ حضرات کو اس بات پر بات کرتے دیکھا کہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی دفعہ 8 بی میں صدر کے اختیارات میں لفظ MAY کا استعمال کیا گیا حالانکہ یہاں SHALL کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا۔ یعنی اعتراض کرنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ نئے قانون کے مطابق وزیر اعظم اگر صدر پاکستان کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری بھیجیں تو یہاں لفظ MAY کا مطلب ہے کہ صدر چاہیں تو اسے قبول کر سکتے ہیں ۔ اگر یہاں لفظ SHALL ہوتا تو صدر کے لیے اس سمری کو منظور کرنا لازمی ہوتا۔
بات تو خالصتاً قانونی ہے لیکن اپنے صحافتی تجربے کے مطابق میری رائے میں یہ اعتراض اتنا وزنی ہے۔ لفظ MAY اور SHALL کی سادہ تعریف یعنی Literal Meaning میں یقینا ایسا ہی ہے کہ جہاں SHALL آ جائے وہاں اس کام پر عمل لازمی اور ضروری ہو جاتا ہے اور جہاں MAY آ جائے وہاں صوابدیدی اختیار سا آ جاتا ہے کہ چاہے تو یہ کام کر لے اور چاہے تو نہ کرے ۔لیکن بات یہ ہے کہ جہاں آئین میں امور ریاست کی بات ہوتی ہے وہاں Literal interpretation یعنی لفظی تشریح کی بجائے جورسپروڈنس سے کام لیا جاتا ہے ۔Interpretation of statutes کے اصولوں کو دیکھا جاتا ہے اور Precedent Law سے رجوع کیا جاتا ہے۔ اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ Precedent Law سے مراد قانون کی دنیا کے وہ اصول ہوتے ہیں جو عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں طے کر دیے ہوتے ہیں۔
صدر اور وزیر اعظم کے اختیار کی تقسیم کار میں محض لفظوں پر معاملہ نہیں ہو گا۔ پوری جورسپروڈنس دیکھی جائے گی۔ ہم صدارتی نظام میں نہیں رہ رہے۔ہم ایک پارلیمانی نظام میں رہ رہے ہیں جہاں حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہے۔ حکومت کا سربراہ جب سمری بھیجے گا تو لفظ بھلے MAY ہی کیوں نہ استعمال ہوا ہو ، صدر اس سمری پر عمل کرنے کا پابند ہو گا۔ یہاں روح کو دیکھا جائے گا اورظاہری لفظوں کو نہیں۔ اس بات کو یوں سمجھ لیجیے کہ چیئر مین نیب وغیرہ کی تقرری کے لیے وزیر اعظم کو آئین پابند کرتا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کریں۔ Consultation کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ اب اگر لفظی معنوں پر جائیںتو وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے مشورہ لے لے کہ میں فلاں کو چیئر مین نیب بنا رہا ہوں یا چیف الیکشن کمشنر بنا رہا ہوں اور پھر اپوزیشن لیڈر کی بات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر من مانی کر لے تو مشاورت یعنی Consultation کی شرط تو پھر بھی پوری ہو چکی ہو گی۔لیکن عدالت نے کہا یہاں لفظ اہم نہیں یہاں اس کی روح اہم ہے۔ اور Consultation کا مطلب Meaningful consultaion یعنی با معنی مشاورت ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ لفظ MAY کا تعلق اس بات سے نہیں کہ صدر چاہے تو سمری کر دیں اور چاہے تو قبول کر لیں ۔بلکہ اس MAY کا تعلق اس بات سے ہے کہ حکومت چاہے تو اس عمل کے ذریعے از سر نو تعیناتی یا توسیع کر سکتی ہے۔ یہاں SHALL ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ ہر آرمی چیف کی ازسر نو تعیناتی یا توسیع لازم ہو گئی ہے۔ یہاں لفظ MAY اسی لیے استعمال کیا گیا ہے کہ یہ وزیر اعظم چاہیں گے کہ ایسا کرنا ضروری ہے تب ہو گا ورنہ نہیں ہو گا۔
لفظ MAY اور SHALL کی جو وضاحت میں نے کر دی ہے اس کے حق میں خود اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں تا ہم اس قضیے میں جانے کی بجائے مجھے صرف یہ درخواست کرنا ہے کہ اس معاملے کو جب پارلیمان نے خوش اسلوبی سے طے کر دیا ہے تو ہمیں بھی لاحاصل بحث سے اجتناب کرنا چاہیے۔افواج پاکستان ایک مقدس ادارہ ہے اور اس ادارے کے تقدس کا تقاضا ہے کہ اسے اس طرح بحث کا موضوع نہ بنایا جائے۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے