کالم

27فروری کا روشن دن اور آپریشن ردالفسادکے پانچ سال

سبھی جانتے ہےں کہ پچھلے ایک ہفتے سے عالمی امن کئی طرح کی آزمائشوں سے دو چار ہے جس سے یہ امر ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ کسی بھی ملک اور قوم کے لئے قومی سلامتی کے اداروں کا وجود کتنا اہم ہوتا ہے اسی تناظر میں ایک جانب بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے تین برس مکمل ہونے پر پوری قوم پاک افواج کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے تو دوسری طرف عسکری ترجمان نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے عوام کی مدد سے دہشت گردی کو بڑی حد تک شکست دے دی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں مزید کہا کہ ردالفساد کا بنیادی محور عوام ہیں۔ جس وقت مسلح فورسز دہشت گردوں سے لڑ رہی ہوتی ہیں تو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو صرف قانون نافذ کرنیوا لے اداروں اور معاشرے کی طاقت سے شکست دی جا سکتی ہے۔ اسی مناسبت سے ہر پاکستانی نہ صرف اس آپریشن کا حصہ ہے ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔ مبصرین نے اسی پس منظر میں کہا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ٓاپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں خفیہ اطلاعات پر تین لاکھ 75 ہزار سے زائدآ پر یشن کئے گئے ان کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملی اور بہت سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس معاملے کی پوری تفصیل بیان کرتے ہوئے عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 72 ہزار سے زائد غیرقا نونی اسلحہ اور پچاس لاکھ سے زائد گولہ بارود ملک بھر سے برآمد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2017ءسے 2021ءکے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے 1800 واقعات رونما ہوئے۔ پاک افغان سرحد پر 1684 دہشت گرد حملے ہوئے اور ان تمام واقعات اورآپریشنز کے دوران 353 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا جبکہ سینکڑوں گرفتار ہوئے۔ انکے بقول 2017ءسے اب تک 1200 سے زائدشدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ فوجی عدالتوں میں 717 کیسز بھجوائے گئے جن میں 344 ملزمان کو سزائے موت اور 106 کو عمر قید کی سزا ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول نیشنل ایکشن پلان پر اگرچہ پیش رفت بہت حد تک ہوچکی ہے تاہم کچھ شعبوں پر کام ہونا باقی ہے۔ اس وقت کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور کرائمز انڈکس میں کراچی آج 106ویں نمبر پر ہے۔اسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ ہم نئے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں اوراب دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے اقدامات کا دنیا بھی اعتراف کررہی ہے۔ اس بار یوم پاکستان پر ہمارا پیغام ”ایک قوم‘ ایک منزل“ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان میں شروع کی گئی امریکی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا خمیازہ اپنی سرزمین پر بدترین دہشت گردی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اسی وجہ سے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا آغاز ہوا جس سے ہمارے 70 ہزار سے زائد شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے دس ہزار سے زائد جوانوں اور افسران کی شہادتیں ہوئیں اور اس سے زیادہ تعداد میں شہری اپاہج ہو کر بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ طرفہ تماشا ہے کہ ہمارے اس کردار اور قربانیوں کے باوجود امریکہ کے ڈومور کے تقاضے برقرار رہے جس نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو اپنا فطری اتحادی بنایا اور خطے میں اسکے توسیع پسندانہ عزائم کی سرپرستی شروع کر دی۔ اس سے بھارت کو مزید شہ ملی اور اس نے سابقہ کابل انتظامیہ کی معاونت سے دہشتگردی کے ذر یعے ہماری سلامتی کمزور کرنے کی خاطر افغان سرزمین استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جس کے تحت اس نے اپنے دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر تربیت دیکر اور انکی فنڈنگ کرکے افغان سرحد سے پاکستان بھجوانا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے ہماری سکیورٹی فورسز نے جو ڈوژیئر تیار کرکے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کے حوالے کیا ہے‘ اس میں افغان سرزمین سے پاکستان میں کی گئی بھارتی دہشتگردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود ہیں جن کے تحت پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی کی 80 فیصد وارداتوں میں بھارت ملوث ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے سکیورٹی فورسز کے آپریشن راہ راست کا 2008ءمیں آغاز کیا گیا تھا جو اپریشن راہ نجات کے مرحلے میں داخل ہوا۔ یہ اپریشن زیادہ تر شمالی‘ جنوبی وزیرستان اور شمالی علاقہ جات میں ہوئے جس کے بعد اپریشن ضرب عضب کا دائرہ ملک کے دوسرے علاقوں تک وسیع کیا گیا۔ ان آپریشنز میں ہماری سکیورٹی فورسز نے شہریوں کی حفاظت اور خوشحال و پرامن پاکستان کی خاطر بیش بہا جانی اور مالی قربانیاں دیں اور آخری دہشتگرد کے مارے جانے تک آپریشن جاری رکھنے کے عزم پر کاربند رہے۔ پھر2017ءمیں آپریشن ردالفساد کا آغاز ہوا جس کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا گیا اور اسکے ماتحت کومبنگ آپریشن اور آپریشن خیبرفور بھی شروع کئے گئے۔ چنانچہ ہماری سول اور عسکری قیادتوں اور قوم کے عزم صمیم کے ساتھ آج ملک دہشتگردی کے ناسور سے پاک ہو رہا ہے اور دہشتگردی کے ذریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی بھار تی سازشیں ناکامی سے ہمکنار ہورہی ہیں۔ بلو چستان میں قوم پرستوں کے روپ میں پیدا ہونیوالی دہشت گردوں کی کھیپ کی سرپرستی بھی بھارت نے کی جو فرقہ واریت کی بنیاد پر بھی ملک میں دہشت گردی پھیلانے کی ساز شوں میں ملوث رہا اور لسانی اور علاقائی منا فر ت پھیلانے کی بھی کوشش کرتا رہا۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے توقع ظا ہر کی ہے کہ موثر عالمی قوتیں اس مرحلے پر سامنے آئیں گی اور بھارت کو نکیل ڈالنے کی خاطر اپنا انسانی کردارادا کرئیں گی۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے