کالم

خطے میں امن کی خواہش کے لئے وزیر اعظم کاعزم

بھارت کی افغانستان میں نئی سازش،غنی حکومت ہوش کے ناخن لے
پاکستان روز اول سے نہ صرف اپنے مشرقی ہمسایہ بلکہ خطے کی دیگر ممالک کے ساتھ بقائے امن کے ساتھ رہنے کیلئے کوشاں چلا آرہا ہے مگر بدقسمتی سے بھارت طاقت کے زعم میں مبتلا ہوکر اپنے ہمسایوںکو ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے اور ہمیشہ ان سے جارحیت کی تلاش میں رہتا ہے ۔ سری لنکا ، نیپال ، سکم اس کی مثالیں کہ جہاں حالات خراب کرکے اس نے اپنی فوجوں کو وہاں داخل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ 27فروری 2019کو بھی بھارت نے پاکستان پر اسی طرح کی ایئر سٹرائیک کرنے کی کوشش کی تھی جس پر پاکستانی فضائیہ نے اسے منہ توڑ جواب دیا اور اس کا سارا غرور خاک میں ملادیا۔ چنانچہ 27فروری کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی خواہش کوکمزوری نہیں سمجھناچاہیے،ملک وقوم کی سلامتی کیلئے پرعزم اورغیرمتزلزل ہیں۔ اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مذاکرات اورسفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل پریقین رکھتا ہوں ، مذاکرات کی خواہش کوکمزوری نہیں سمجھناچاہیے۔ انہوں نے کہا ملک وقوم کی سلامتی کیلئے پرعزم اورغیرمتزلزل ہیں،بھارت کوبتادیاتھاجب 27فروری 2019 کواس نے حملے کاانتخاب کیا ۔وزیراعظم نے کہاکہ قوم کی حمایت یافتہ ہماری مسلح افواج ہر سطح پر جارحیت کا جواب دیں گی اور غالب آئیں گی،ہم اپنے ملک اور اپنی قوم کی سلامتی کے لیے پرعزم ہیں۔بھارت پاکستان کو ہمیشہ سے ترنوالہ سمجھتا چلا آرہا ہے اور اس نے اس بات کا کبھی ادراک نہیں کیا کہ اس کے مغرب میں ایک ایٹمی طاقت موجود ہے جس کے شہری اپنے دلوں میں ہمیشہ شہادت کی آرزو رکھے چلے آرہے ہیں ۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ آپس کے علاقائی معاملات کو جنگوں کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہیے مگر بھارتی حکمران ہماری اس خواہش کو شاید ہماری کمزور ی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ پاکستان 22کروڑ عوام کا ایک ایٹمی ملک ہے جس میں 99فیصد مسلمان آباد چلے آرہے ہیں اور اس مملکت کی بنیاد ہی لاالہ اللہ کی بنیاد پر رکھی گئی ۔ کلمہ توحید ہمارے لئے ایٹمی طاقت سے بڑھ کر ہے ، اس کلمہ کے اندر جو قوت ہے وہ دنیا کی تمام قوتوں سے بڑھ کر ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگوں کے دوران بھارت کے دفاعی ماہرین پاکستانیوں کے اس جذبے کا تجزیہ نہیں کیا جب بھارت نے 1965میں ٹینکوں کے ذریعے پاکستان پر چڑھائی کرنے کی جسارت کی تھی تو پاکستانی مسلمان بم باندھ کر ان ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور چونڈہ کے محاذ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنادیا تھا ، بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی امن مذاکرات کی کوششوں کو سنجیدگی سے لے اور طاقت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی خواہش نہ کرے اور اسے یہ بھی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے 14سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کرے ، غزوہ احد ، غزوہ بدراس کی روشن مثالیںہیں ۔ مسلمان اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اپنا سر توکٹا سکتا ہے مگر جھکائے گا نہیں، ان حالات میں وزیر اعظم پاکستان کا یہ ٹویٹ پوری قوم کیلئے باعث عزم و باعث حوصلہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تین سال مکمل ہونے پر حوصلہ افزا بیانات کا اجرا کیا ہے ، اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو تین سال مکمل ہو گئے، 27فروری کو بھارت کی ناکام جارحیت کا پاکستان کی مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں، آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاکستان نے بھارت کی ناکام جارحیت کا بھرپور جواب دیاتھا، پاک فضائیہ کی جانب سے بھارت کے دو جنگی طیارے مار گرانا بڑی کامیابی تھی، پاک بحریہ نے سمندر میں بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا پیشہ ورانہ انداز میں موثر جواب دیا، مسلح افواج مادر وطن کے دفاع کےلئے پر عزم ہیں، قوم کا عزم اورمسلح افواج کی پیشہ ورانہ تیاری مشکل میں کامیابی کی کلید ہے، جارحیت کے جواب میں صرف ہتھیار اور تعداد نہیں بلکہ قوم کا عزم اورمسلح افواج کی آپریشنل تیاریاں کامیاب رہتی ہیں۔ 27فروری 2019کو بھارتی فضائیہ کو منہ کی کھانا پڑی تھی اور یہ ان کیلئے ایک کلیدی سبق کے طور پر ہے ۔ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی جس کو پاکستان کی مسلح افواج نے برق رفتاری سے ناکام بنادیا تھا اور پاکستان نے پرعزم انداز میں اپنی خود مختاری کا تحفظ اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیااور بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کے طیارے کو گراکر اسے زندہ گرفتار کرلیا تھا مگر بعد میں اسے بھی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے بطور جذبہ خیر سگالی بھارت واپس بھیجوادیا ، حالانکہ اگر پاکستان چاہتا تو اس پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا تھا مگر پاکستان نے پوری دنیا کو یہ پیغام بھیجوایا کہ ہم علاقائی امن اور استحکام کے حامی ہے اور ہماری امن کی خواہش مضبوط عزم اور دفاع کی صلاحیت سے باہم ہے اور ہم لڑنے کے خواہشمند نہیں مگر اپنے وطن کے ایک ایک چپے کے دفاع کیلئے جاگ رہے ہیں اور مادر وطن پر کسی بھی قسم کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے موقع پر قوم کے آہنی عزم کا اعادہ
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ 27فروری کا دن ہندوستان کےلئے ایک کلیدی سبق ہے، پاکستان نے پرعزم انداز میں اپنی خودمختاری کا تحفظ اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا، 27فروری 2019 کو پھر دو بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کے مثالی ردعمل کی آج تیسری سالگرہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے 26 فروری 2019 کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور حملہ کیا جبکہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے بھارتی جسارت کو برق رفتاری سے ناکام بنایا۔ پاکستان نے پرعزم انداز میں اپنی خودمختاری کا تحفظ اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا،27فروری 2019 کو پھر دو بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں بھارتی طیاروں کو پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے مار گرایا، تباہ شدہ طیارے کے گرفتار ہوا باز کو بعد میں بطور جذبہ خیر سگالی بھارت واپس بھیج دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کا حامی ہے، ہماری امن کی خواہش، مضبوط عزم اور دفاع کی صلاحیت سے باہم منسلک ہے۔ ہندوستان کےلئے 27فروری ایک کلیدی سبق بھی ہے، ہندوستان کی کسی بھی عسکریت پسندی، جنگی جنون کا مناسب جواب جائے گا۔ حکومت، مسلح افواج، عوام ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
لاہور قلندر ز پی ایس ایل کا چمپئن بننے میں کامیاب
پی ایس ایل کے لاہور میں ہونے والے فائنل میچ میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطان کو باآسانی ہراکر یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کرلیا ہے ، لاہور قلندرز نے 7سال بعد فائنل میچ جیت کر یہ ثابت کردیا ہے کہ محنت اگر خلوص کے ساتھ کی جائے تو یہ کامیابی کی کلید بن جاتی ہے اور پیش آنے والے ناکامیاں عارضی ثابت ہوا کرتی ہے ۔ گزشتہ روز کھیلے جانے والے اس فائنل میچ میں عوام کا جوش بھی دیدنی تھا ، خیبر سے کراچی تک کھیلوں کے شائقین نے اس میچ کو آخری گیند تک براہ راست دیکھا ، یقینا یہ ایک دلچسپ اور تاریخی میلہ تھا،پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو پچھاڑ کر پہلی مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر لیا، ایونٹ کے دوران کوالیفائر راﺅنڈ میں ہار کا بدلہ بھی لے لیا۔قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں لاہور قلندرز کی کپتانی شاہین شاہ آفریدی اور ملتان سلطانز کی قیادت محمد رضوان کے سپرد تھی۔اس فائنل میچ کو دیکھنے کیلئے صدر مملکت ، گورنر پنجاب اور پی سی بی کے چیئر مین بھی آخری وقت تک گراو¿نڈ میں موجود رہے ، پی ایس ایل کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کھیلوں کیلئے ایک محفوظ ترین ملک ہے جہاں کے عوام کھیلوں کا فروغ چاہتے ہیں۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔