کالم

131ویں کانووکیشن۔۔۔!

کسی بھی قوم کی پہچان اس کی تعلیم ، تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ تعلیم ،تربیت اور اخلاق معاشرے کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔تعلیم ، تربیت اور اخلاق کےلئے گھر کے ماحول کے ساتھ تعلیمی اداروں کا ماحول بھی ناگزیزہے۔قوموں کی ترقی میں درسگاہوں کا کلیدی کردار ہوتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کو وطن عزیز پاکستان کے درسگاہوں میں ممتاز مقام حاصل ہے اور یہ برصغیر کی قدیم یورنیورسٹی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی14 اکتوبر1882ءکو قائم ہوئی جس کے سب سے پہلے چانسلر سر چارلس امپفر سٹون اور پہلے وائس چانسلر سر جیمز بروڈ ووڈلیال تھے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے موجودہ چانسلر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر ہیں۔ 26 فروری 2022 بروز ہفتہ کوپنجاب یونیورسٹی کے فیصل آڈیٹوریم میں131ویں کانووکیشن کی تقریب ہوئی جس میں سینئر صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر ،پرو وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد سلیم مظہر،رجسٹرار اور کنٹرولر محمد رﺅف نواز، ایڈیشنل کنٹرولر راجہ شاہد جاوید، سینیٹ وسنڈیکیٹ، سینئر فیکلٹی ممبران، طلبہ اور ان کے والدین نے شرکت کی اور خاکسار کو بھی شرکت کا موقع ملا۔ جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ” پنجاب یونیورسٹی میں صرف تین فی صد بچوں کو داخلہ ملتا ہے ،نیشنل لیول پر 9فی صد داخلہ ملتا ہے اور97فی صدبچوں کو پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا ہے۔اس سال تین لاکھ سے زیادہ بچوں نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کےلئے اپیلیکشن دیں اور صرف 9 ہزار کے قریب بچوں کو داخلہ ملا، اس لیے آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو چار سال پہلے داخلہ ملا اور آج آپ نے اپنی تعلیم مکمل کرلی۔آپ کے پاس صرف ڈگری نہیں بلکہ اس کے مطابق علم اور ہنربھی ہونا چاہیے ۔ ہمیں وہ ساری چیزیں کرنی چاہییںجو نیشنل اور انٹرنیشنل مارکیٹ کی ضرورت ہوں،اس لیے ہم نے نصاب اورپروگرامز کوریوائز کیا ۔” چانسلر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اپنے خطاب میں کہا کہ”جب میں چانسلر بنا تھا تواس وقت بہت سے ےونیورسٹیوں میں اےکٹنگ وائس چانسلر لگے تھے، میری پہلی کوشش یہ تھی کہ میں تمام اداروں میںمستقل وائس چانسلر لگاﺅں تاکہ وہ پوری دلچسپی اور محنت سے یوینورسٹی اور بچوں کی تعلیم کو بہتر کرسکےں۔ہم نے پنجاب کے اکثر جامعات میںمیرٹ پر وائس چانسلر لگا دیے ۔ پنجاب اور پاکستان کی یونیورسٹیاں دنیا کی پانچ سو ٹاپ ریٹینگ یونیورسٹیوں میں نہیں تھیں۔میری خواہش تھی کہ دنیا کی ٹاپ ریٹنگ یونیورسٹیوں میںہماری یونیورسٹیاں بھی شامل ہوں۔مجھے خوشی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی انٹرنیشنل ریٹنگ میں پوزیشن بہت بہتر ہوئی ہے۔اس کا کریڈٹ ٹیم کے کیپٹن ڈاکٹر نیاز احمد اختراور ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ انسان کا معیار ہرگز یہ نہیں ہوتا ہے کہ ان کے پاس کتنا بڑا عہدہ اور کتنی بڑی دولت ہے؟تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،تاریخ نے ہمیشہ ان لوگوں کا نام زندہ رکھاہے جہنوں نے انسانیت کی خدمت کی ہے ، جولوگ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، وہ اس دنیا میں بھی زندہ رہتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کا ایک مقام ہوتا ہے۔اس لئے میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو طاقت اور دولت دی ہے، اس دولت اور طاقت سے عوام الناس کے ساتھ بھلا ئی کریں۔ ہم نے کووڈ19کے دوران مخیر خواتین اور حضرات کے تعاون سے گورنر ہاوس سے بارہ ارب روپے کی چیریٹی کی اور دو ملین خاندانوں کوان کے گھروں تک راشن پہنچایا۔(نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا ،جس کا پڑوسی بھوکا سوئے)، تو پاکستانیوں نے ثابت کردیا کہ وہ مشکل وقت میںاپنے غریب بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے۔کووڈ19کے دوران ڈاکٹرز اور پری میڈیکل سٹاف نے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کی جانیں بچائیں ، میںان کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اسی طرح وائس چانسلر اور ان کی ٹیم نے کووڈ 19 کے دوران مشکل اور کٹھن وقت میںتعلیمی معیار کو گرائے بغیر تعلیم کےلئے اہم کام کیا ۔ چودھری محمد سرور نے طلبہ کے ساتھ چند ذاتی تجربات بھی شیئرکیے۔ انھوں نے کہا کہ میں خودٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا تھا،میرے گاﺅں کے سکول میں چاردیواری سمیت دیگر سہولیات نہیں تھیں۔ میں دو کلومیٹر پیدل ہائی سکول جاتا تھا۔انھوں نے طلبہ سے کہا کہ عملی زندگی آسان نہیں ہے، سب سے پہلی بات یہ ہے جو آج آپ کی کامیابی کا دن ہے،آج کا دن آپ کےلئے تاریخی دن ہے۔ اس کامیابی میں آپ کے والدین کا بڑا حصہ ہے، تواس لیے میں ہمیشہ بچوں کو یہی کہتا ہوں کہ والدین کو عزت دیں،ان کو کھبی تکلیف نہ ہونے دیں،ان کو ہمیشہ خوش رکھیں اور پھر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ زندگی میں بھی کامےاب ہونگے اور آخرت میں بھی کامیاب ہونگے ۔ آپ کے زندگی میں بہت سے چیلنجز آئیں گے، کبھی مشکل وقت آئے گا اور کھبی اچھا وقت آئے گا لیکن آپ ہمیشہ مثبت سوچیں گے توڈپریشن کا شکار نہیں ہونگے، شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نعمتیں عطا کیے ہیں۔ زندگی میں کوئی چیز ناممکن نہیں ہے، ہر چیز ممکن ہے۔آپ جدوجہد اور محنت کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا ۔”پنجاب یونیورسٹی کے سکھ طالب علم ڈاکٹر کلیان سنگھ کلیان نے گورنر پنجاب چودھری سرور سے پنجابی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر کلیان سنگھ کلیان نے پنجابی میں بابا گرونانک کی زندگی اور تعلیمات پر پی ایچ ڈی کی اور انھوں نے مسلمان استادپروفیسر ڈاکٹر نوید شہزاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔131ویں کامیاب کانووکیشن کے انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر ،پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، رجسٹرار اور کنٹرولر محمد رﺅف نواز،ایڈیشنل کنٹرولر راجہ شاہد جاوید، سینیٹ وسنڈیکیٹ، سینئر فیکلٹی ممبران، طلبہ وطالبات ، ان کے والدین اور یونیورسٹی کے ملازمین کومبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اللہ پاک تمام طلباءو طالبات کو عملی زندگی میں کامیاب و کامران کرے۔ علاوہ ازیں وطن عزیز پاکستان کے سبھی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے تعلیم ، تربیت اور اخلاق پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ہمارے طلبہ کی عملی زندگی کامےاب اور خوشگوار رہے،وہ پاکستان کا نام بلند اور روشن رکھیں۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے