صحت

فضائی آلودگی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

فضائی آلودگی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

نیویارک: ماہرین نے کئی تحقیقی سروے اور مطالعوں کو دوبارہ پڑھ کر اس کی میٹا اسٹڈیز کی ہے۔ اس کے تحت فضائی آلودگی میں زائد دیر تک رہنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے مطابق ہوائی آلودگی میں موجود خاص باریک ذرات یا پی ایم 2.5 اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق موجود ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف فضائی آلودگی اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق بھی واضح کرتی ہے، بلکہ اس سے ماحولیاتی تنظیموں اور اداروں کو پی ایم 2.5 ذرات کو روکنے کے لیے قانون سازی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ تحقیق میں شامل پروفیسرمارک وائسکوف اور فلپ ڈرنکر کہتے ہیں کہ یہ تحقیقات عوامی صحت کے لیے قابلِ عمل راہ بھی تجویز کرتی ہے۔ اس کے جائزے میں ROBINS-E ٹول اور اس کے پروٹوکول بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ جس کا پورا مطلب رسک آف بائییس ان نان رینڈمائزڈ اسٹڈیز آف ایکسپوژر ہے۔ اس سے ماحولیاتی مسائل کو گہرائی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل کی تازہ اشاعت میں شامل ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے دن رات کی محنت سے کل 2000 مطالعات کو دوبارہ دیکھا ہے اور 51 میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی اور ڈیمنشیا کے درمیان کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ تمام تحقیقات گزشتہ دس برس کے دوران منظرِ عام پرآئی تھیں۔ ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگر پی ایم 2.5 کی شرح فضا میں اگر کم بھی ہو تب بھی اس کے مضراثرات برقرار رہتے ہیں۔ یعنی اگر مقررہ بے ضرر مقدار یعنی پی ایم 2.5 ذرات 12 مائیکروگرام فی مکعب میٹرسے معمولی بڑھنے سے بھی دماغ کو نقصان ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر اس میں دو فیصد پی ایم 2.5 بڑھ جائے تو ڈیمنشیا کا خطرہ چھلانگ لگاکر 17 فیصد تک جاپہنچتا ہے۔ یوں فضائی آلودگی ڈیمنشیا جیسے عارضے کو کئی گنا بڑھاسکتی ہے۔ سائنسدانوں نے تجاویز میں کہا ہے کہ فضائی آلودگی، کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت پی ایم 2.5 کو کم کرنے پر توجہ دنیا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے