کھیل

ملتان ٹیسٹ کا چوتھا روز: انگلینڈ پہلی اننگز 492 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائے گا

ملتان ٹیسٹ کا چوتھا روز: انگلینڈ پہلی اننگز 492 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائے گا

ملتان ٹیسٹ میں آج چوتھے روز کا کھیل ہوگا، انگلش ٹیم اپنی پہلی اننگز پر 492 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائے گی جبکہ پاکستان کی برتری ختم کرنے کے لیے انگلینڈ کو مزید 64 رنز درکار ہیں، تیسرے روز قومی بولرز بے بس نظر آئے، جو روٹ 175 اور ہیری بروک نے 141 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔‌پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے تیسرے روز مہمان ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر 96 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا۔‌‌انگلش بلے باز جو روٹ 32 اور زیک کرالی نے 64 رنز سے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تاہم 113 کے مجموعی اسکور پر زیک کرالی صرف 14 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد 78 رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کو اپنی وکٹ دے بیٹھے۔‌بعدازاں بین ڈکٹ بیٹنگ نے جوروٹ کا ساتھ دیا تاہم مہمان ٹیم نے کھانے کے وقفے تک مزید کسی نقصان کے اسکور بورڈ کو 230 رنز تک پہنچادیا تھا، اس دوران جو روٹ اور بین ڈکٹ نے اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کرلی تھیں۔‌بین ڈکٹ بیٹنگ اور جو روٹ کے درمیان تیسری وکٹ پر 136 رنز کی جارحانہ پارٹنرشپ قائم ہوئی تاہم انگلینڈ کا اسکور 249 تک پہنچا تو بین ڈکٹ 84 کے انفرادی اسکور پر عامر جمال کا شکار بنے۔‌اس کے بعد ہیری بروک بیٹنگ کے لیے آئے، کریز پر پہلے سے موجود جو روٹ نے اپنے کیریئر کی 35ویں سنچری مکمل کی۔‌جو روٹ نے ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا، انہوں نے سابق انگلش کپتان الیسٹر کک کو پیچھے چھوڑا، جنہوں نے 12 ہزار 472 رنز بنارکھے تھے۔‌گزشتہ ماہ جو روٹ نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں سری لنکا کے خلاف 2 سنچریاں بناکر سابق کپتان الیسٹر کک سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا قومی ریکارڈ بھی چھین لیا تھا اور اب وہ رنز کے اعتبار سے بھی ان سے آگے ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔‌بعد ازاں، ہیری بروک نے بھی اپنی سنچری مکمل کی، یہ ان کے کریئر کی چھٹی سنچری تھی جبکہ حیران کن طور پر پاکستان میں یہ ان کی چھٹی اننگز تھی اور پچھلی تینوں اننگز میں بھی انہوں نے سنچری اسکور کی تھی۔‌جب تیسرے دن کھیل کا اختتام ہوا تو جو روٹ 176 اور ہیری بروک 141 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے جبکہ مہمان ٹیم کو پہلی اننگز کا خسارہ ختم کرنے کے لیے مزید 64 رنز درکار اور اس کی 7 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔‌پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور عامر جمال نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔‌پاکستان کی جانب سے دوسرے روز سعود شکیل اور نائٹ واچ مین نسیم شاہ نے 328 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا، اس دوران سعود شکیل نے اپنے کریئر کی ساتویں نصف سنچری مکمل کرلی۔‌قومی ٹیم کا اسکور 388 تک پہنچا تو نسیم شاہ 33 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے جبکہ نائٹ واچ مین کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد رضوان بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ کھاتہ کھولے بغیر ہی پویلین واپس لوٹ گئے جس کے بعد سلمان علی آغا نے سعود شکیل کے ساتھ ملکر اسکور کو آگے بڑھایا۔‌قومی ٹیم کی ساتویں وکٹ 450 کے مجموعی اسکور پر سعود شکیل کی صورت گرگئی سعود شکیل 177 گیندوں پر 82 رنز بناکر شعیب بشیر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد آنے والے آل راؤنڈر عامر جمال صرف 7 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔‌464 رنز پر 8 وکٹیں گرنے کے بعد آغا سلمان اور شاہین شاہ نے ٹیم کی کمان سنبھالی، اس دوران سلمان علی آغا نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور انہوں نے نہ صرف اپنی سنچری مکمل کی بلکہ اپنے کیریئر کے 15ویں ٹیسٹ میچ کی 28 ویں اننگز میں ایک ہزار رنز بھی مکمل کیے۔‌سلمان علی آغا اور شاہین شاہ آفریدی نے تیز رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا اسکور 549 تک پہنچایا تاہم شاہین شاہ آفردی جیک لیچ کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ سلمان علی آغا اور شاہین شاہ آفریدی کے درمیان 9 ویں وکٹ پر 99 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔‌پاکستان کی 10 ویں وکٹ 556 کے مجموعی اسکور پر گری، جب ابرار احمد محض 3 رنز بناکر جو روٹ کا شکار بنے۔‌اس طرح پاکستان کی ٹیم نے 556 رنز بناکر آل آؤٹ ہوگئی جبکہ پاکستان کی جانب سے سلمان علی آغا 104 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ ہوئے۔‌انگلینڈ کی جانب سے جیک لیچ نے 3، گس اٹکنسن، اور برائیڈن کارس نے 2،2 جبکہ جو روٹ، شعیب بشیر اور کرس ووکس نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔‌پاکستانی بیٹنگ کے جواب میں انگلش ٹیم بیٹنگ کرنے آئی، انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف مایوس کن آغاز کیا اور اس کی پہلی وکٹ 4 رنز پر گرگئی، مہمان ٹیم کے کپتان اولی پوپ بغیر کوئی رن بنائے نسیم شاہ کا شکار بنے۔‌تاہم ایک وکٹ گرنے کے بعد زیک کرالی اور جو روٹ نے ذمہ درانہ بیٹنگ کی اور دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک کریز پر موجود رہے۔‌دوسرے دن کھیل کے اختتام پر انگلش ٹیم نے ایک وکٹ پر 96 رنز اسکور کیے، زیک کرالی 64 اور جو روٹ 32 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں، انگلینڈ کو پہلی اننگز میں پاکستان کا خسارہ ختم کرنے کے لیے مزید 460 رنز درکار ہیں۔‌کھیل کے تیسرے روز جو روٹ اور زیک کرالی رنز ایک وکٹ کے نقصان پر 96 رنز سے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کریں گے۔‌‌ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔‌پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور عبد اللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا تاہم صائم ایوب صرف 8 کے مجموعی اسکور پر 4 رنز بنانے کے بعد پویلین واپس لوٹ گئے۔‌صائم ایوب کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد عبد اللہ شفیق اور شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا۔‌شان مسعود اور اوپنر عبداللہ شفیق نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 253 رنز بنائے، 261 کے مجموعی اسکور پر عبداللہ شفیق 102 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، انہوں نے ٹیسٹ میں اپنی پانچویں سنچری بنائی۔‌عبداللہ شفیق کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان شان مسعود بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹہر سکے اور صرف 2 رنز کے اضافے کے ساتھ 151 رنز بنا کر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، انہوں نے 4 سال بعد کیریئر کی 11ویں سنچری اسکور کی جس میں 10 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔‌شان مسعود نے 28 اننگز پہلے انگلینڈ کے خلاف 2020 میں سنچری بنائی تھی جبکہ دوسری مرتبہ انگلینڈ کے خلاف 150 رنز کی اننگز کھیلی ہے۔‌پہلے دن کھیل کے اختتام سے کچھ دیر قبل پاکستان کو چوتھا نقصان بابراعظم کی صورت میں اٹھانا پڑا جو 30 رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔‌پہلے دن کے اختتام پر پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 328 رنز بنالیے تھے تاہم سعود شکیل 35 اور نسیم شاہ بغیر کوئی رن بنائے کریز پر موجود تھے۔‌‌پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا آغاز آج سے ہوگیا، ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔‌ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان شان مسعود نے کہا کہ بڑے اسکور کی کوشش کریں گے اور اندازہ ہے کہ بڑی دیر سے جیت نہیں سکے، ہمارے پاس ٹیم میں 2 اسپنرز اور 3 فاسٹ بولر ہیں، ہم چیزوں کو تبدیل کر کے ٹریک پر واپس آنا چاہتے ہیں۔‌دوسری جانب انگلش ٹیم کے کپتان اولی پوپ کا کہنا تھا کہ پچ میں نمی موجود ہے لہٰذا جلد وکٹیں لینے کی کوشش کریں گے، ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ کا فیصلہ ہی کرتے۔‌یاد رہے کہ انگلینڈ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کی غیر موجودگی میں اولی پوپ ٹیم کی قیادت کررہے ہیں جبکہ بیٹے کی پیدائش کے باعث بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ سے ڈراپ کیے جانے والے قومی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی پاکستان ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔‌واضح رہے کہ ملتان میں اب تک دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک ٹیسٹ جیت چکی ہیں، انگلینڈ سے قبل بنگلا دیش نے پاکستان کو اس کی ہی سرزمین پر 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کیا تھا۔‌‌پاکستان کی پلینگ الیون میں شان مسعود (کپتان)، عبداللہ شفیق، صائم ایوب، بابراعظم، سعود شکیل، محمد رضوان، سلمان علی آغا، عامر جمال، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور ابرار احمد شامل ہیں۔‌‌انگلینڈ کی پلینگ الیون میں اولی پوپ (کپتان) زیک کرالی، بین ڈکٹ، جو روٹ، ہیری بروک، جیمی اسمتھ(وکٹ کیپر)، کرس ووکس، گس اٹکنسن، برائیڈن کارس(ڈیبیو)، جیک لیچ اور شعیب بشیر شامل ہیں۔‌قبل ازیں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کی گئی، دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ٹرافی کے ساتھ فوٹو شوٹ کرایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے