کھیل

شاہد آفریدی بورڈ میں مسلسل تبدیلیوں سے تنگ

شاہد آفریدی بورڈ میں مسلسل تبدیلیوں سے تنگ

لاہور: شاہد آفریدی بورڈ میں مسلسل تبدیلیوں سے تنگ آگئے،سابق کپتان کا کہنا ہے کہ ہر سال نیا چیئرمین آنے سے پھر نظام بدل جاتا ہے، دنیا میں کہیں بھی معاملات کو ایسے نہیں چلایا جاتا، کسی بھی نئے سیٹ اپ کو مستحکم ہونے کے لیے کم از کم تین سال کا وقت ملنا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی کرکٹ نظام میں تبدیلیاں کوئی نئی بات نہیں،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے ٹیم کے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے کے بعد ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلیاں کی گئیں، وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو سلیکٹرز کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا، آنے والے وقت میں بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹائے جانے سمیت ٹیم میں کئی اور پلیئرز کی بھی شامت آنے کا امکان ہے۔ بورڈ میں مسلسل تبدیلیوں کا نوٹس لیتے ہوئے سابق راؤنڈر شاہد آفریدی نے پی سی بی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، انھوں نے ٹیم کی خراب کارکردگی کے لیے بار بار تبدیلیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ جب آپ کوئی نظام تبدیل کرتے یا نیا لاتے ہیں تواسے وقت دینا چاہیے، یہاں ہر سال ایک نیا چیئرمین آتا اور نیا نظام متعارف کرایا جاتا ہے،اس انداز میں معاملات بہتر طور پر نہیں چلائے جا سکتے۔ تمام سینئر بورڈ ممبران اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو ایک میز پر مل کر بیٹھ کر ٹھوس حکمت عملی وضع کرنا چاہیے، اگر آپ ہر سال نظام بدلتے رہے تو کیسے نتائج کی توقع کر سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ رمیز راجہ 2022 میں پی سی بی کے چیئرمین تھے، سال کے آخر میں ان کی جگہ نجم سیٹھی نے سنبھال لی۔‌2023 کے وسط میں ذکا اشرف کو پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کا سربراہ بنا دیا گیا، فروری 2024 میں محسن نقوی کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین بن گئے ،انھوں نے صرف ایک سیریز کے بعد شاہین آفریدی کوہٹا کر بابر اعظم کوقومی ٹی 20 ٹیم کا کپتان بنا دیا۔‌شاہد آفریدی نے وقفے وقفے سے ہونے والی انہی تبدیلیوں پر آواز اٹھاتے ہوئے کسی بھی نئے سیٹ اپ کو مستحکم ہونے کے لیے کم از کم تین سال کا وقت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے